برصغیر پاک و ہند کو دنیا میں ایک منفرد مقام نہ صرف اس کے قدرتی وسائل پر کے معاشرتی اقدار کی وجہ سے بھیحاصل تھا -انگریز سو سال رہ کر چلا گیا ہماری جغرافیائی سرحدیں وی آزاد ہو گی مگر ذہنوں کو وہ غلامی کی ایسی زنجیر میں جکڑ گیا کہ ہم چاہ کر بھی وہ زنجیر نہیں توڑسکےچاہیے تو یہ تھا کہ ہم بہترین سائنس میں ان کا مقابلہ کرتا ہے مگر ہم نے بدترین معاشرتی اقتدار کو اپنا لیا-ہمارے بچے تو دادا دادی کی کہانیوں سے تربیت سے تھے مبارک ہو کب سے آپ کا استاد بن گیا,ہمارے لئے تفریق کا بہترین سامان نانی کا گھر ہوتا تھا تو یہ پر تشدد ویڈیو گیمز کس طرح ہمارے خمیر میں بھر گئی-وہ بچے جو کبھی مسکرانے کی وجہ بنتے   آج یورپ کے فضل و کرم سے ان کے رویوں سے پریشان والدین ڈاکٹر کے پاس پھر رہے ہیں -آخر یہ سب کچھ ایک دن میں تو نہیں ہوا,ہم نے ٹکنولجی جی خرید تو لینا تھا مگر اسے استعمال کرنا سیکھا-یاد رکھیں آپ کے پاس موجود کو معلومات کا دو بہترین ذریعہ ہے لیکن خدارا اسےبے جا تفریح کا سامان نہ بنائیں-بچے تو میدانوں میں آپ سے دور میں اچھے لگتے ہیں,گلیوں محلوں میں کھیلے جانے والے کھیل  محض تفریح نہیں بلکہ یہ سبق ہے کہ اکیلا انسان کچھ نہیں کر سکتا- ایک بچہ جب چھوٹی سی اور اپنے ارد گرد مختلف گھرانوں سے آئے بچوں کے ساتھ کھیلتا ہے تو اس قدر تجربات حاصل کرتا ہے جو زندگی بھراس کے کام آتے ہیں-وہ لوگوں کی مختلف اقسام سے واقف ہو جاتا ہے اور اپنے مسائل خود حل کرنا سیکھتا ہے-والدین کو چاہیے کہ وہ جدید آلات کے استعمال کو پڑھائی تک محدود رکھیں-یہ حالات نہ صرف ہمارے بچوں کا بچپن تباہ کر رہے ہیں ہیں بلکہ انسان تنہا ہوتا جا رہا ہے اور یہ تنہائی کسی بڑی تباہی کی نوید ہے-