بنی نوع انسان کو جب اللہ تعالی نے اس دنیا میں بھیجا تو اس کی ضرورتوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے بہت سی چیزوںکا اہتمام کیا-جیسا کہ کچھ روایات میں آتا ہے کہ زمین پر سب سے پہلے سیکھے جانے والا عمل کاشتکاری ہے-وقت کے ساتھ ضرور تو کا دائرہ کار وسیع تر ہوتا گیا اور ایک وقت ایسا آیا جب پیسہ ما رض وجود میں آیا-انسان نے اسے تجارت اور ضروریات زندگی کے حصول کا ذریعہ بنانا شروع کر دیا-انسانی معاشرہ اس وقت تک پرسکون تھا جب تک پیسہ انسان کےتابع  تھا اور وقت نے یو پلٹا کھایا کہ انسان پیسے کا پجاری بن کر رہ گیا -انسان نے اپنی زندگی کے ہر لمحے کو دولت جمع کرنے کا ذریعہ بنا دیا-ہر عمل کا پیمانہ یہ ہوتا جا رہا ہے کہ اس سے کتنے ڈالر کا فائدہ ہوگا اور یوں معاشی ترقی میں معاشرتی تنزلی کا سبب بنتا جا رہا ہے-اس بات سے ہرگز انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انسان کی زندگی کو سہولیات سے ہمکنار کرنے کے لئے پیسے کا بہت بڑا عمل دخل ہے-اور اپنی طرز زندگی کو بہتر کرنے کے لئے معاشی جدوجہد کو نظر انداز کرناناممکن ہے -پر جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ حالات اس وقت تک قابو میں تھے جب تک پیسہ انسان کے قابو میں تھا اور حالات اس وقت بےقابو ہوئے ہوئے جب پیسہ انسان کو استعمال کرنا شروع ہو گیا- جہاں پیسہ دیکھ کر  رشتے داریاں تسلیم کی جاتی ہے ,کسی خون کے رشتے کو بھی غربت کی وجہ سے ہتک عزت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور امیر شخص کو بڑے فخر سے فیملی فرینڈ کہہ کر بھی متعارف کروایا جاتا ہے-آج کل ہمیں ایسے معاشرے میں زندگی بسر کر رہے ہیں جہاں انسان کوپہچانا ہی اس نقطہ نظر سے جاتا ہےکی گھڑی ,جوتے اور کپڑوں کے پیسے ملا کر انسان کتنا مہنگا ہےاور پھر اسی حساب سے اس کی عزت کی جاتی ہے-اگر آپ کے کپڑے 500 کے ہیں تو خاطر مدارت چائے بسکٹ سے ہوگی ,پانچ ہزار کےہیں تو سموسے اور پچاس ہزار کے قریب شامی اور چپلی کباب آپ کے حصے میں آئیں گے- انسان نے ہر رشتے کو پیسوں کے ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے جس سے ہم نہ صرف معاشرتی تنزلی بلکہ ایسا سے کمتری اور احساس برتری جیسے ذہنی مسائل میں مبتلا ہو رہے ہیں -اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی معاشی زندگی کے ساتھ ساتھ معاشرتی اثاثوں کو بھی محفوظ رکھیں-