بحیثیت بشر انسان بہت سی غلطیوں اور گناہوں کا مرتکب ہوتا ہے- اگر خلوص نیت سے اللہ تعالی کی طرف رجوع نہ کیا جائےتو یہ اعمال برائی کے پلڑے کواس قدر وزن دار کر دیتے ہیں کہ خسارہ انسان کا مقدر بن جاتی ہے-لیکن تمام گناہوں میں ایک ایسا گناہ بھی ہے جو نہ صرف برائی کے پلڑے کو طاقت بخشتا ہے بلکہ انسان کی نیکیوں کو خاکستر کر دیتا ہے-اس عمل کا نام حسد ھے-حسد ایک ایسا عمل ہےجو انسان کو گنہگار سے کافر بنا دیتی ہے پتا بھی نہیں چلتا,کیوں کے دراصل حسد اللہ تعالی کی تقسیم سے بغاوت ہے-حاسد انسان اللہ تعالی کی تقسیم کی گئی نعمتوں میں نعوذباللہ ناانصافی کا عنصر تلاش کرتا ہے جو کہ کفر کی پہلی سیڑھی ہے- حسد ایک دیمک کی مانند ہے جو روح میں سرایت کرتے کرتے ایک ناسور کی شکل اختیار کرلیتی ہے-جس طرح سرطان کے مختلف مراحل ہوتے ہیں بالکل اسی کے مترادف حسد کے بھی مختلف مراحل ہوتے ہیں- پہلے تو حاسد محض یہ سوچتا ہے کہ جو نعمت کسی اور کے پاس موجود ہے وہ اس سے کیوں محروم ہے,پھر وہ شخص اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ نعمت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے -اور پھر حسد اپنی انتہا کو اس وقت تک پہنچتا ہے جب یہ سوچ حاسد کے دل میں گھر کر جاتی ہے کہ جو  نعمت دوسرے شخص کے پاس موجود ہے مجھے حاصل ہو یا نہ ہواس شخص سے کسی بھی صورت چھن جانی چاہیے-, دراصل حسد ایک ایسا زہر ہے  جوانسان پیتا تو خود ہے مگر کسی دوسرے شخص کے موت کی توقع کر بیٹھتا ہے -دین اسلام میں حاسد کو نا پسندیدہ ترین شخصیت قرار دیا گیا ہے اور ہمیں یہ حکم ہے کہ شریروں کے شر سے اور حاسدوں کے حسد سے میں محفوظ رہنے کی ہما وقت دعا کریں-بحیثیت مسلمان ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم حسد جیسے گناہ کبیرہ کو اپنی شخصیت کے پاس نہ بھٹکنے دیں -اللہ تعالی کی تقسیم کو سر خم تسلیم کریں اور اپنے پاس موجود نعمتوں کا ہر روز جائزہ لیں تو تمام زندگی اللہ تعالی کے شکرگزار  رہیں گے-